3 Aug 2015

مسئلہ رفع یدین کے بارے میں امام بخاری علیہ رحمہ کا مذہب

مسئلہ رفع یدین کے بارے میں امام بخاری علیہ رحمہ کا مذہب
(ان کے رسالہ جزء رفع یدین کی روشنی میں)


1 Nov 2014

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین دلیل نمبر 1

حدثنا عبداللہ بن ایب المخزومی وسعد ان بن نصر و شعیب بن عمرو فی آخرین قالو احدثنا سفیان بن عینیۃ  عن الزھری عن سالم عن ابیہ قال رایت رسول اللہ   اذا افتتح الصلوٰۃ رفع یدیہ حتیٰ یحاذی بھما وقال بعضہم حذو منکبیہ واذا  ارد ان یرکع وبعد ما یرفع راسہ من الرکوع لا یرفعھما وقال بعضہم ولا یرفع بین  السجدتین والمغی واحد آھ بلفظہٖ
دلیل نمبر1، مستخرج صحیح ابوعوانہ صفحہ 90/2ج، طبع حیدر اآباد دکن میں ہے
محدث ابوعوانہ فرماتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ایوب مخزومیؒ اور سعدان بن نصر اور شعیب بن عمرو ؒ تینوں نے حدیث بیان کی اور انہوں نے فرمایا کہ ہم نے سفیان بن عیینہ ؒ نے حدیث بیان کی انہوں نے زہری سے اور انہوں نے سالم ؒ سے اور اور وہ اپنے باپ عمر سے روایت کی اور حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے کندھوں کے برابر اور جب ارادہ کرتے کہ رکوع کریں اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد تو آپ رفع یدین نہ کرتے اور بعض راویوں نے کہا ہے کہ سجدتین میں بھی رفع یدین نہ کرتے مطلب سب راویوں کی روایت کا ایک ہی ہے۔

25 Jan 2014

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین (دلیل نمبر 1) پر اعتراضات کے جوابات

’’قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْر عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِالْحُمَیْدِیُّ  ثَنَا الزُّھْرِیُّ  قَالَ اَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ  عَنْ اَبِیْہِ رضی اللہ عنہما قَالَ (رضی اللہ عنہما) رَائیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم اذَا افْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرْکَعَ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعُ رَاْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ فَلَا یَرْفَعُ وَلَا بین السَّجْدَتَین ۔‘‘(مسندحمیدی ج۲ص۲۷۷، مسند ابی عوانہ ، ج۱ص۳۳۴)
ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتےہیں ’’میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کودیکھاجب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔ رکوع کی طرف جاتے ہوئے، رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اور سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔‘‘

8 Jan 2014

حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین

’’قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیٰ  بْنُ بُکَیْرٍ  قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ عَطَائٍ اَنَّہٗ کَانَ جَالِسًا مَعَ نَفْرٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّصلی اللہ علیہ و سلم فَذَکَرْنَا صَلٰوۃَ النَّبِیِّصلی اللہ علیہ و سلم فَقَالَ اَبُوْحُمَیْدِ السَّاعِدِیُّرضی اللہ عنہما اَنَا کُنْتُ اَحْفَظُکُمْ لِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم رَاَ یْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ اَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ثُمَّ ھَصَرَظَھْرَہٗ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ اِسْتَویٰ حَتّٰی یَعُوْدَ کُلُّ فَقَارٍ مَّکَانَہٗ وَاِذَا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ غَیْرَمُفَتَرِشٍ وَّلَا قَابِضَہُمَا‘‘(صحیح بخاری؛ ج۱ ص۱۱۴‘  صحیح ابن خزیمہ؛ ج۱ ص۲۹۸)
ترجمہ :محمدبن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کےصحابہ کرام  کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے فرماتے ہیں: ’’ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کا ذکر کیا (کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟) توحضرت ابو حمید الساعدی  رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’میں تم سےحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز پڑھنے کے طریقے کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں پھر رسول اللہ  صلی  اللہ  علیہ  و سلم  کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  کو دیکھا جب تکبیر تحریمہ کہی تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا اور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑا پھر اپنی پیٹھ کو جھکایا جب سر کو رکوع سے اٹھایا تو سیدھے کھڑے ہو گئے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی اور جب سجدہ کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے حال پر رکھا نہ پھیلایا اور نہ ہی ملایا۔

5 Jan 2014

حضرت براء بن عازب رضی اللہ اور ترک رفع یدین

’’اَلْاِمَامُ الْحَافِظُ اَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمانُ بْنُ ثَابِتٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍرضی اللہ عنہما یَقُوْلُ؛کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحاذِیَ مَنْکَبَیْہِ لَایَعُوْدُ بِرَفْعِھِما حَتّٰی یُسَلِّمَ مِنْ صَلَا تِہٖ۔‘‘
(مسند ابی حنیفہ بروایۃابی نعیم  رحمہ اللہ ص۳۴۴،سنن ابی داؤد ؛ج۱ص۱۱۶ )
ترجمہ:حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہما فرماتےہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز شروع کرتےتورفع یدین کرتے، (اسکےبعدپوری نماز میں) سلام پھیرنے تک دوبارہ رفع یدین نہیں  کرتے تھے۔‘‘

19 Oct 2013

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیثِ ترکِ رفع یدین دلیل نمبر 1

’’قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَحْمَدُ بْنُ شُعَیْبِ النِّسَائِیُّ اَخْبَرَ نَا سُوَیْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ  عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ رضی اللہ عنہما قَالَ اَلَااُخْبِرُکُمْ بِصَلٰوۃِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم قَالَ؛ فَقَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ثُمَّ لَمْ یُعِدْ۔‘‘(سنن النسائی ج۱ص۱۵۸،سنن ابی داؤدج۱ص۱۱۶ )
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہمانےفرمایا:’’کیامیں تمہیں اسب ات کی خبر نہ دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیسےنمازپڑھتےتھے؟حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتےہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کھڑےہوئےپہلی مرتبہ رفع یدین کیا (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت) پھر(پوری نماز میں) رفع یدین نہیں کیا۔‘‘

21 Sept 2013

حدیث جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین

’’قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ ابْنُ حِبَّا نٍ اَخْبَرَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدِ الْعَسْکَرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسَیِّبَ بْنَ رَافِعٍ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طُرْفَۃَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَرضی اللہ عنہما عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ و سلم اَنَّہٗ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاَبْصَرَقَوْمًا قَدْرَفَعُوْا اَیْدِیَھُمْ فَقَا لَ قَدْ رَفَعُوْھَا کَاَنَّھَااَذْنَابُ خَیْلٍ شُمُسٍ اُسْکُنُوْا فِی الصَّلَاۃِ۔‘‘
(صحیح ابن حبان ج3ص178،صحیح مسلم ج1ص181 )
ترجمہ:حضرت جابربن سمرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد میں داخل ہوئے لوگوں کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’انہوں نے اپنے ہاتھوں کو شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح اٹھایا ہےتم نماز میں سکون اختیار کرو ۔‘‘ (نماز میں رفع یدین نہ کرو)۔

12 Sept 2013

رفع یدین کے بارے میں اہلحدیث علماء کے آپس میں اختلافات

رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹهتے وقت رفع یدین کرنے اور نہ کرنے سے متعلق سلف صالحین وائمہ ہدیٰ کے مابین اختلاف ہے اور دوراول یعنی صحابہ وتابعین وتبع تابعین رضی الله عنهم سےاس میں اختلاف چلا آرہا ہے اوراس اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ رفع یدین کے بارے مختلف روایات وارد ہوئی ہیں لہذا جس مجتهد نے اپنے دلائل کی روشنی میں جس صورت کوزیاده بہتر وراجح سمجها اس کو اختیارکیا اورکسی بهی مجتهد نے دوسرے مجتهد کے عمل واجتہاد کو باطل وغلط نہیں کہا۔
اور یہی حال ان مجتہدین کرام کا دیگراختلافی مسائل میں بهی ہے کہ باوجود اختلاف کے ایک دوسرے کے ساتهہ محبت وعقیدت واحترام کا رشتہ رکهتے تهے جیسا کہ امام شافعی رحمه الله امام مالک رحمه الله کے شاگرد ہیں لیکن بہت سارے اجتہادی مسائل میں ان سے اختلاف رکهتے ہیں حتی کہ رفع یدین کے مسئلہ میں بهی دونوں استاذ وشاگرد کا اجتہاد مختلف ہے امام شافعی رحمه الله رفع یدین کے قائل ہیں اورامام مالک رحمه الله رفع یدین کے قائل نہیں۔


11 Sept 2013

تفسیرِ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین

اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :
’’قَدْاَفْلَحَ الْمُؤمِنُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلٰوتِھِمْ خَاشِعُوْنَ‘‘(سورۃمومنون: 1، 2)
ترجمہ:’’پکی بات ہےکہ وہ ایمان لانےوالےکامیاب ہوگئےجونمازمیں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔‘‘
تفسیر:’’قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ: مُخْبِتُوْنَ مُتَوَاضِعُوْنَ لَایَلْتَفِتُوْنَ یَمِیْناً وَّلَا شِمَالاً وَّلَایَرْفَعُوْنَ اَیْدِیَھُمْ  فِی الصَّلٰوۃِ… ‘‘ (تفسیرابن عباس:ص212)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’خشوع کرنےوالےسےمراد وہ لوگ ہیں جو نماز میں تواضع اورعاجزی اختیار کرتے ہیں اوروہ دائیں بائیں توجہ نہیں کرتے ہیں اورنہ ہی نماز میں رفع یدین کرتے ہیں۔‘‘